1 جولائی 2013 - 19:30
ماسکو ميں صحافيوں سے صدر مملکت کي گفتگو

صدر احمدي نژاد نے کہا ہے کہ گيس برآمد کرنے والے ملکوں کي تنظيم جي اي سي ايف ايک طاقتور اور موثر ادارہ بن کر ابھرے گي-

ابنا: يہ بات انہوں نے منگل کے روز اپنے دورہ روس کے آخري دن ماسکو  ميں نامہ نگاروں سے بات چيت کرتے ہوئے کہي-
صدر احمدي نژاد کا کہنا تھا کہ اسلامي جمہوريہ ايران جي اي سي ايف کو مضبوط بنانے اور گيس کي عالمي منڈي کے  انتطام ميں انتہائي اہم کردار ادا کر رہا ہے-
انہوں نے کہا کہ دنيا ميں گيس کے سب سے بڑے ذخائر ايران اور روس کے پاس ہيں اور دونوں ملکوں کے درميان قريبي تعاون سے گيس برآمد کرنے والے ملکوں کي نوتاسيس تنظيم کو مضبوط اور موثر بنانے ميں مدد ملے گي-
صدر احمدي نژاد نے جي اي سي ايف کے سربراہي اجلاس کو انتہائي مفيد اور سود مند قرار ديتے ہوئے کہا کہ اجلاس ميں تنظيم کو کار آمد اور موثربنانے کے حوالے سے اہم فيصلے کئے گئے ہيں-
انہوں نے ايران اور روس کے درميان تعلقات کو اطمينان بخش قرار ديتے ہوئے کہا کہ  دونوں ممالک دنيا ميں ايک منصفانہ اور خود مختار بلاک قائم کرنے کي کوشش کر رہے ہيں اور عالمي سطح پر کسي بھي قسم کي توسيع پسندي اور يکطرفہ فيصلوں کے مخالف ہيں-

گيس برآمد کرنے والےملکوں کي تنظيم جي اي سي ايف کا دوسرا سربراہي اجلاس روس کے دارالحکومت ماسکو ميں ختم ہوگيا ہے-

اسلامي جمہوريہ ايران، الجزائر، بوليويا، مصر، استوائي گني، ليبيا، نائيجيريا، قطر، روس، ٹرينيڈاڈ، ٹوباگو ، وينيز ويلا اور عمان ، اس تنطيم کي مجلس عاملہ کے رکن ہيں- ہالينڈ، قزاقستان   اور ناروے کو مبصر کا درجہ ديئے جانے کا امکان ہے جبکہ عراق بھي مبصر کي حثيت سے اس تنظيم ميں شامل ہوگيا ہے-
........
/169